ایک تخلیق کار کے لیے احساسات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں' معاشرتی روئیوں کا بغور مشاہدہ تخلیق کے سفر کے لیے کتنا ضروری ہے' دوسروں لفظوں میں گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ احساسات حاصل ہوجاتے ہیں' یا مصنوعی طریقے سے بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں؟ مثال کے طور پر ایک شخص کے حالات بہتر نہیں ہیں' اس نے زمانے کے نشیب و فراز کو نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس کیا ہے' کیونکہ وہ خود اس کا حصہ تھا یا ہے۔
ایک شخص جو ایسے ماحول سے وابستہ ہےجہاں بھوک نہیں ' نہ ہی دولت کی کمی ہے جسے احساس محرومی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر قلم پر گرفت دونوں کی مضبوط ہے ' تو دنوں ایک ہی معیار کی تحریر لکھ پائیں گے؟
جس طرح ایک امیر شخص ' غربت اور بھوک کے درد کو محسوس نہیں کرسکتا ایسے ہی ایک غریب اس طبقے کے بارے میں جاندار طریقے سے لکھ پائے گا ' جہاں کی زندگی غرباء کی زندگی سے بہت مختلف ہے؟
مگر بات کرنے کا مقصد یہ ہے' بلکہ گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ احساسات ' لکھاری کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں' کیا مصنوعی طریقے سے انھیں حاصل کیا جاسکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گفتگو میں شریک ہونے کے لیے فیس بک پر "اردو" فورم میں شامل ہوں۔

زمانہ ساز تجربات سے منجهے ہوئے قلم کی جو تاثیر ہوگی وہ کسی اور میں نہیں ہو سکتی
جواب دیںحذف کریں