پیر، 28 اکتوبر، 2013

اردو ہماری ضرورت ہے


ہم جب اردو کی بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ غالب و میر کی شاعری کی بات ہو رہی ہے یا پھر ناول اور افسانوی تحاریر کی بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ایک زبان ہے' زبان میں ادب ہوتا ہے ' ادب میں زبان نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔ 
پوری دنیا میں تحقیقات ہو رہی ہیں ' سائنس کے متعلق نئ سے نئ ایجادات ہو رہی ہیں' ایسے سائنسی مضامین کو اردو زبان کی اشد ضرورت ہے ۔ جب تک بین الاقوامی ادب کے ساتھ ہم اردو کو نہیں جوڑیں گے تب تک ہمارے معاشرے میں ترقی کے اثرات نظر نہیں آئیں گے۔
بہت سا کام ہو رہا ہے ' ایسے سافٹ وئیر ایجاد ہوئے ہیں جو اردو زبان سے متعلق ہماری رہنمائ کرتے ہیں۔
ہم اس زبان کو صرف افسانوی تحاریر یا شاعری تک محدود نہ رکھیں' بلکہ اس میں وسعت پیدا کریں۔ میرا ایک طالبعلم کی حیثیت سے مشورہ ہے کہ جو جس شعبے کے ساتھ منسلک ہے وہ اسی کے متعلق لکھے۔
جیسے کوئ کاروبار کرتا ہے تو اپنی کاروباری زندگی کے تحربات لکھے۔ کوئ آئ ٹی سے منسلک ہے تو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بارے میں دلچسپ انداز میں مضامین لکھے۔ 
صرف شاعری یا افسانوی تحاریر ہی اردو کی ترقی میں معاون نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: عبدالباسط احسان
Like ·  · Stop Notifications · 2 hours ago

منگل، 22 اکتوبر، 2013

احساسات حاصل کیے جاتے ہیں یا ہو جاتے ہیں؟


ایک تخلیق کار کے لیے احساسات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں' معاشرتی روئیوں کا بغور مشاہدہ  تخلیق کے سفر کے لیے کتنا ضروری ہے' دوسروں لفظوں میں گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ احساسات حاصل ہوجاتے ہیں' یا مصنوعی طریقے سے بھی حاصل کیے  جاسکتے ہیں؟ مثال کے طور پر ایک شخص کے حالات بہتر نہیں ہیں' اس نے زمانے کے نشیب و فراز کو نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس کیا ہے' کیونکہ وہ خود اس کا حصہ تھا یا ہے۔ 
ایک شخص جو ایسے ماحول سے وابستہ ہےجہاں بھوک نہیں ' نہ ہی دولت کی کمی ہے جسے احساس محرومی نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر قلم پر گرفت دونوں کی مضبوط ہے ' تو دنوں ایک ہی معیار کی تحریر لکھ پائیں گے؟ 
جس طرح ایک امیر شخص ' غربت اور بھوک کے درد کو محسوس نہیں کرسکتا ایسے ہی ایک غریب اس طبقے کے بارے میں  جاندار طریقے سے لکھ پائے گا ' جہاں کی زندگی غرباء کی زندگی سے بہت مختلف ہے؟ 
مگر بات کرنے کا مقصد یہ  ہے' بلکہ گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ احساسات ' لکھاری کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں' کیا  مصنوعی طریقے سے انھیں حاصل کیا جاسکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گفتگو میں شریک ہونے کے لیے فیس بک پر "اردو" فورم میں شامل ہوں۔

ہفتہ، 19 اکتوبر، 2013

ادب اور فیس بک کے اثرات


آپ کے خیال میں  فیس بک نے اردو ادب کے لیے مثبت کام کیا ہے یا منفی ؟ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ نئے سے نئے لکھاری اور شعراء کی تعداد میں  اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اس حلقے میں وہ لوگ بھی شامل ہوچکے ہیں ' جو نہ تحریر کے حساب سے لکھاری ہیں نا ہی  وزن کے حساب سے شاعر۔۔۔۔۔
ایک شخص شعر لکھتا ہے ' خوبصورت لڑکی کی تصویر ساتھ نتھی کرتا ہے' بس وہ لڑکی کی تصویر ہی خوبصورت ہوتی ہے اسی وجہ سے اکثر کو داد ملتی ہے' اسی طرح لکھاریوں کو دیکھا جائے تو اکثر لکھاری ایسے ہیں' جنھوں نے پڑھا کم ہے لکھا زیادہ ہے۔ 
اگر ہم دوسرے زاوئیے سے دیکھیں تو یہ اچھی بات بھی ہوسکتی ہے کہ فیس بک نے بہت سے لوگوں کو زبان دی' بہت سے لوگ اس ادبی حلقے میں شامل ہوئے' انھیں سیکھنے کو بھی بہت کچھ  ملا' عام زندگی میں تو شاید نہ ان کو کوئ استاد 
مل سکتا نہ ہی قاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ فیس بک نے کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟

گفتگو میں شریک ہونے کے لیے ہمارا فورم جائن کریں۔